فقر و غنا
معنی
١ - درویشی اور تونگری، غریبی اور امیری، تنگی اور فراخی۔ "دولت کی فراوانی میں بندہ حرف اللہ کے لیے فقر و غنا اختیار کرے۔" ( ١٩٨٤، طوبٰٰی، ١٨٩ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق دو اسما 'فَقر' اور 'غنا' کو بالترتیب حرفِ عطف 'و' کے ذریعے ملا دینے سے مرکب عطفی بنا۔ جو اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً سب سے پہلے ١٨٧٢ء کو "دیوان فدا" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - درویشی اور تونگری، غریبی اور امیری، تنگی اور فراخی۔ "دولت کی فراوانی میں بندہ حرف اللہ کے لیے فقر و غنا اختیار کرے۔" ( ١٩٨٤، طوبٰٰی، ١٨٩ )